بنگلورو:19/جولائی (ایس او نیوز) ایک طرف مرکز میں بی جے پی کی حکومت انسداد گؤ کشی ضوابط لاگو کرنے کی کوشش میں ہے تو دوسری طرف سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے گؤ کشی کرنے والے طبقے کو عارضی راحت دی ہے، جبکہ بی جے پی کی برسر اقتدار ریاست گوا میں بیف کا استعمال نہ صرف سرکاری طور پر جائز ہے بلکہ گوا کے وزیراعلیٰ منوہر پاریکر نے یہ بیان دے کر بی جے پی کے دہرے معیار کا ثبوت پیش کردیا ہے کہ حکومت گوا میں بیف کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کرناٹک سے دو ہزار کلو بیف روانہ خریدے گی۔ گوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب بھی ضرورت پڑی ہے گوا نے پڑوسی ریاست کرناٹک سے بیف کی خریداری کی ہے۔ ماہرین کی جانچ کے بعد ہی یہ بیف خریداجاتاہے۔گوا کے واحد میکانیکل ذبح خانہ گوا میٹ کارپوریشن میں روزانہ دو ہزار کلو بیف دستیاب ہوتاہے، باقی مانگ کو پورا کرنے کیلئے حکومت گوا کو پڑوسی ریاست پر منحصر ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوا کے سرکاری مذبح خانہ میں جانوروں کے ذبیحہ کی تعداد بڑھانے پر حکومت کی کوششیں جاری ہیں۔ مرکزی حکومت کے خطوط پر گوا میں بیف پر پابندی لگانے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے منوہر پاریکر نے کہا کہ گوا ملک کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے اور یہاں پر 30 فیصد سے زائد آبادی اقلیتوں کی ہے۔ ریاستی حکومت یہاں بیف پر پابندی لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔